عالم فاضل
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - علم و فضلیت والا، بہت پڑھا لکھا آدمی۔ "اچھے خاصے ہمارے آبا لے گئے تھے، چار، پانچ سال وہاں رہتے تو آج کو عالم فاضل کہلاتے۔" ( ١٩٣٩ء، شمع، ٣٥ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'عالم' کے ساتھ عربی اسم 'فاضل' لگانے سے مرکب 'عالم فاضل' بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٣٩ء کو "شمع" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - علم و فضلیت والا، بہت پڑھا لکھا آدمی۔ "اچھے خاصے ہمارے آبا لے گئے تھے، چار، پانچ سال وہاں رہتے تو آج کو عالم فاضل کہلاتے۔" ( ١٩٣٩ء، شمع، ٣٥ )
جنس: مذکر